ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی ہائی کورٹ نے کی ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کی وکالت؛ مرکز کو دی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت

دہلی ہائی کورٹ نے کی ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کی وکالت؛ مرکز کو دی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت

Fri, 09 Jul 2021 23:27:43    S.O. News Service

نئی دہلی 9 جولائی (ایس او نیوز) دہلی ہائی کورٹ نے ملک میں یکساں سول کوڈ کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کو اس سمت میں اقدامات کرنا چاہئے اور یہ ملک میں سیول کوڈ لاگو کرنے کاصحیح وقت ہے۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران ، ہائی کورٹ نے کہا کہ ملک اب مذہب، ذات پات اور طبقہ کی تفریق سے بالاتر ہو چکا ہے لہذا یہاں یکساں سول کوڈ نافذ کئے جانے کی ضرورت ہے۔

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ نے  کہا کہ آج کا ہندوستان مذہب، ذات، کمیونٹی سے بالاتر ہو چکا ہے۔ جدید ہندوستان میں مذہب اور ذاتوں کی بندشیں تیزی سے ٹوٹ رہی ہیں، اس طرح ایک ہم خیال معاشرہ ترقی کر رہا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 44 کا ذکر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس کے تحت یکساں سول کوڈ کی طرف اقدامات اٹھائے جائیں۔

کیس کی سماعت کے دوران ، جسٹس پرتبھا ایم  سنگھ نے کہا کہ 1985 میں سپریم کورٹ کی طرف سے یکساں سیول کورٹ کی   ہدایت دی گئی تھی لیکن اس پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی قوانین کی وجہ سے عدالتوں کو بھی بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا ، آرٹیکل 44 کے نفاذ سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق  سابق چیف جسٹس جے ایس اے بوبڈے نے بھی ایک پروگرام کے دوران گوا کے یکساں سول کوڈ کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ آئین بنانے والوں نے جس  کا  تصور کیا تھا  وہ قانون گوا میں پہلے سے ہی  موجود ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی آرٹیکل 44 کے حوالے سے اس کی تائید کی۔

خیال رہے کہ طلاق کے ایک معاملے  میں دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس پرتبھا ایم سنگھ کے سامنے جو معاملہ تھا،  اس میں  شوہر ہندو میرج ایکٹ کے مطابق شادی سے علیحدگی کا خواہاں تھا جبکہ بیوی کا کہنا تھا کہ وہ چونکہ مینا قبائلی برادری سے تعلق رکھتی ہے لہذا اس پر ہندو میرج ایکٹ عائد نہیں ہوتا۔ بیوی کا مطالبہ تھا کہ اس کے شوہر کی طلاق کی عرضی کو عدالت سے خارج کر دیا جائے۔ شوہر نے بیوی کی اسی دلیل کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ عدالت نے شوہر کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ اس فیصلہ کو وزارت قانون کے پاس بھیجا جائے تاکہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے حوالہ سے غور و خوض کیا جا سکے۔

آرٹیکل 44 میں کیا ہے؟
آئین کے حصہ چہارم میں ریاست کی پالیسی کے ہدایتی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ آرٹیکل 36 سے 51 تک ، بہت سے امور پر ریاستوں کو تجاویز دی گئیں ہیں۔ ان ہی  میں آرٹیکل 44 میں کہا گیا ہے کہ ریاست صحیح وقت پر تمام مذاہب کے لئے ایک  ضابطہ اخلاق بنائے۔ آرٹیکل 44 کا مقصد ملک میں امتیازی سلوک کو کم کرکے باہمی تعاون اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

یاد رہے  کہ ملک میں  مختلف مذاہب کے لئے  مذہبی قوانین کے مطابق   پرسنل لاء  قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس کے تحت شادی ، طلاق ، وراثت کے حقوق ، الاؤنس اور گود لینے کے قواعد طے کیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر اب ملک میں یکساں سول کوڈ  نافذ ہوتا ہے تو   ملک بھر میں تمام مذاہب کے لئے صرف ایک ہی قسم کا قانون لاگو ہوگا۔ بتاتے چلیں کہ اس طرح کا ضابطہ قائم کرنا حکمراں  بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایجنڈے میں  طویل عرصے سے ہے۔  2019 کے عام انتخابات کے بی جے پی کے منشور میں بھی یہ ایجنڈہ  موجود تھا۔


Share: